فهرس الكتاب

الصفحة 937 من 6343

(143) اس کا تعلق بھی گذشتہ آیت سے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسا نون کے کھانے کے لیے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا کئے ہیں، ان میں سے چار، دو مذکر، ومونث بھیڑ اور دو مذکر و مونث بکری ہیں، اور ان سب کا کھانا حلال قرار دیا ہے، لیکن مشرکین نے اپنی خودساختہ شریعت کے ذریعہ ان میں سے میں بعض اقسام کو ( جب کا ذکر اوپر آچکا ہے، اور جنہیں قرآن کریم نے بحیرہ اور وصیلہ وغیرہ کے نام دیئے ہیں) اپنے اوپر حرام بنا لیا تھا، اللہ تعالیٰ انہی کی تردید کرتے ہوئے یہاں فرمایا کہ ذرا بتاؤ تو سہی کہ ان بھیڑوں اور بکریوں میں سے اللہ نے دونوں مذکروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مونثوں کو، یا ان بچوں کو جو دونوں مؤ نثوں کے پیٹ میں پرورش پا رہے ہیں، کوئی ایسی بات تو بتاؤ جس کی بنیاد علم ویقین پر ہو ؟!

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت