(12) جن منافقین نے بنی نضیر کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارا، ان سے جھوٹا وعدہ کیا کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے اور اگر مدینہ چھوڑنے کی نوبت آئی تو وہ بھی ان کے ساتھ نکل جائیں گے، ان کی مثال شیطان کی ہے جس نے انسان کو دھوکہ دیا اور کہا کہ تم اللہ کا انکار کر دو اور میری پیروی کرو اور جب وقت آئے گا تو میں تمہاری مدد کے لئے تیار ہوں اور جب انسان نے اس کی باتوں میں آ کر اللہ کا انکار کردیا تو اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اسے بھی عذاب میں شریک نہ کردے، فوراً اس آدمی اور اس کے الحاد و کفر سے اپنی برأت کا اعلان کردیا اور کہنے لگا کہ میں اللہ کہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے تمہاری مدد کی تو وہ میری گرفت کرے گا، لیکن نہ شیطان کو اس کی برأت کام آئی اور نہ ہی کافر کو وعدہ شیطان اور دونوں ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیئے گئے۔ آگے فرمایا کہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق میں ظلم کرنے والوں کا انجام ہمیشہ سے ایسا ہی ہوا ہے۔