فهرس الكتاب

الصفحة 3423 من 6343

(32) قرطبی لکھتے ہیں کہ جب کفار مکہ کا مسلمانوں پر ظلم و ستم حد سے تجاوز کرنے لگا اور مکہ میں جینا دوبھر ہوگیا اور اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہوگئی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی، تاکہ وہاں اللہ کی عبادت اطمینان و سکون سے کرسکیں، انتہی

لیکن یہ حک مہر دور اور ہر جگہ کے لئے عام ہے۔ جب بھی اور جہاں کہیں بھی مسلمان ایسے حالات سے دوچار ہوں گے اور اللہ کی عبادت کرنے سے روک دیئے جائیں گے، انہیں وہاں سے ہجرت کر کے ایسی جگہ چلے جانا چاہئے جہاں آزادی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرسکیں، اس لئے کہ انسانوں کی تخلیق کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ جب تک دنیا میں رہیں، اپنے خلاق و مالک کی عبادت کرتے رہیں اسی لئے کچھ مسلمان ہجرت سے پہلے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے، جہاں کے بادشاہ نجاشی رحمتہ اللہ علیہ ان کی دکھ بھری کہانی سن کر بہت متاثر ہوئے اور انہیں اپنے ملک میں پوری آزادی کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کی اجازت مل گی تو وہ بھی حبشہ سے مدینہ منورہ چلے گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت