فهرس الكتاب

الصفحة 31 من 6343

عقیدہ توحید کو ثابت کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی نبوت کی صداقت پر عقلی دلیل پیش کی ہے، اور کہا ہے کہ اے میرے رسول کی مخالفت کرنے والو، اس دعوت کو رد کرنے والو اور اسے جھوٹا بتانے والو، اگر تمہیں اس باتے میں شبہ ہے کہ واقعی یہ قرآن ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے، تو جان لو کہ وہ تمہاری طرح ایک انسان ہے۔ تم اسے یوم پیدائش سے جانتے ہو کہ نہ وہ لکھتا ہے نہ پڑھتا ہے۔ وہ ایک کتاب لایا اور تمہیں خبر دی کہ یہ اللہ کی کتاب ہے، تو تم نے کہا کہ اس نے خود گھڑا ہے اور اللہ پر افترا پردازی کی ہے۔ اگر بات ویسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو، تو اس کتاب جیسی ایک سورت لے آؤ اور تمہارے جتنے معاون و مددگار ہوں ان سب کی مدد حاصل کرلو، اور یہ تمہارے لیے آسان بھی ہے اس لیے کہ تم لوگ فصاحت و خطابت کے بادشاہ ہو، اور میرے رسول سے تمہاری دشمنی بھی بہت بڑی ہے۔ اور اگر تم نہیں لا سکتے (جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ چودہ سو سال گذر گئے اور کوئی شخص اس چیلنج کو قبول نہ کرسکا) تو یہ کھلی نشانی اور واضح دلیل ہوگی اس امر کی کہ میرا رسول سچا ہے، اور وہ کتاب سچی ہے جو میں اس پر اتاری ہے، اور تمہارے عجز کا یہ اعتراف اس بات کا متقاضی ہے کہ تم اس کی ابتاع کرو اور اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوگا اور یہ آگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

یہ آیت قرآن کریم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں کی صداقت پر دلیل ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہدایت قبول کرنے کی توقع اسی سے کی جاتی ہے جو شبہ میں مبتلا ہو اور حق کو جانا چاہتا ہو، لیکن وہ مخالف جو حق کو جاننے کے باوجود اسے چھوڑ چکا ہو اس سے قبول حق کی توقع نہیں کی جاتی۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لفظ عبد کا استعمال اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی سب سے پہلی صفت یہی تھی، اسی لیے آپ نے اللہ کا حق عبودیت اس طرح ادا کیا کہ دوسرے سے اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت