فهرس الكتاب

الصفحة 3990 من 6343

(37) مشرکین عرب کہا کرتے تھے کہ اگر تورات و انجیل کی مانند ہمیں بھی کوئی کتاب ملی ہوتی تو اس پر عمل کر کے ہم بھی اللہ کے مخلص بندے ہوتے اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک نہ بناتے، لیکن جب اللہ نے ان کے لئے قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی عظیم تر کتاب ہ، تو اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ معلوم ہوا کہ ان کی بات محض جھوٹی تمنا تھی، اس لئے انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ قرآن کریم کی تکذیب کا انجام کیا ہوتا ہے۔

مشرکین عرب کی اس جھوٹی تمنا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی دیگر آیتوں میں بھی بیان کیا ہے۔ سورۃ فاطر آیت (24) میں فرمایا ہے: (واقسمواباللہ جھدایمانھم لائن جاءھم نذیر لیکونن اھذی من احدی الاھم فلما جاء ھم نذیر مازادھم الا نفوراً) " اور کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں، پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آگیا، تو ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔" اور سورۃ الانعام آیات (651، 751) میں فرمایا ہے: (ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا وان کنا عن ذرا ستھم لغافلین اوتفولوالوانا انزل علینا الکتاب لکنا اھذی منھم فقد جاء کم بینہ من ربکم و ھدی ورحمۃ فمن اظلم ممن کذب بآیات اللہ وصدق عنھا) " کہیں تم لوگ یہ نہ کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے جو دو فرقے تھے ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے محض بے خبر تھے یا یوں کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیادہ راہ راست پر ہوتے سو اب تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے ایک کتاب واضح اور رہنمائی کا ذریعہ اور رحمت آچکی ہے اب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتائے اور اس سے روکے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت