33۔ نوح (علیہ السلام) نو سو پچاس سال تک اپنی قوم کو دعوت توحید دیتے رہے، لیکن ظالم قوم اپنے کفر و شرک پر مصر رہی، تو بالآخر انہوں نے اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے کہا کہ میرے رب ! میری قوم نے مجھے یکسر جھٹلا دیا ہے، اب ان کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں ہے، اس لیے میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے، اور مجھے اور میرے اہل ایمان ساتھیوں کو اس عذاب سے بچا لے جس کے ذریعہ تو ظالموں کو ہلاک کرے گا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ ان مومنوں کی تعداد اسی تھی۔ چالیس مرد اور چالیس عورتیں تھیں۔