فهرس الكتاب

الصفحة 4459 من 6343

(3) سورۃ الزخرف کی آیت (2) کی طرح یہاں بھی باری تعالیٰ نے قرآن کریم کی قسم کھا کر اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام نہیں ہے، بلکہ اسے ہم نے نازل کیا ہے اور وہ رات بڑی ہی خیر و برکت والی تھی جس میں ہم نے اسے نازل کیا تھا۔ وہ شب قدر تھی جس کی صراحت اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ آیت (185) میں کردی ہے۔ فرمایا: (شھر رمضان الذی انزل فیھا القرآن) " وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل کیا گیا۔" اور اس کی مزید صراحت سورۃ القادر آیت (1) یوں فرما دی: (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر) " ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ "

قتادہ کہتے ہیں کہ پورا قرآن کریم شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کے بیت العزۃ تک نازل کیا گیا، پھر وہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے 23 سال کی مدت میں مختلف اوقات میں نازل فرمایا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ چونکہ نزول قرآن کی ابتدا ماہ رمضان میں ہوئی، اسی لئے سبیل التغلیب یہاں کہا گیا ہے کہ قرآن ماہ رمضان میں نازل ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے اس رات کو برکتوں والی رات کا نام اس لئے دیا ہے کہ اس میں قرآن کریم نازل ہوا، جس میں دین و دنیا کی ہر بھلائی کی طرف بنی نوع انسان کی رہنمائی کی گئی ہے اور جس کے ذریعہ اللہ کی رحمت و برکت اور عدل و ہدایت سارے عالم میں پھیل گئی ہے اور جس رات کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنلد ترین رتبہ ملا اور یہ وہ رات ہے جس میں فرشتوں اور روح الامین کا زمین پر نزول ہوتا ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ آنے والے پورے سال میں وقوع پذیر ہونے والی حیات و موت، خیر و شر اور روزی میں کشادگی اور تنگی اور دیگر تمام مقدرات کو لکھتا ہے۔

اور اس قرآن کریم کے نزول کا مقصد جن و انس کو قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرانا تھا، تاکہ ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کر کے عذاب نار سے بچیں اور جنت کے حقدار بنیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت