فهرس الكتاب

الصفحة 2279 من 6343

(7) زکریا (علیہ السلام) کے گھر وہ لڑکا پیدا ہوگیا اس کا نام خود اللہ تعالیٰ نے یحی رکھا، اور جب اس نے ہوش سنبھالا تو اللہ نے اس سے کہا، اے یحی ! تورات کا علم اچھی طرح حاصل کرو، اس لیے کہ بنی اسرائیل کے لوگ تورات ہی پڑھتے تھے، اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تمام انبیائے بنی اسرائیل اور علما و احبار لوگوں کے درمیان اسی کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ اس لیے ضروری تھا کہ وہ تورات کو اچھی طرح پڑھتے اور اس میں موجود احکام و شرائع کا فہم حاصل کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کو بچپن ہی میں علم و حکمت، فہم تورات اور اعمال صالحہ کی توفیق دے دی تھی، ان کے اندر اپنے والدین، رشتہ داروں، غیروں اور اللہ کی تمام مخلوق کے لیے رحمت و شفقت کا بے پایاں جذبہ پایا جاتا تھا۔ (حنانا من لدنا) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی شفقت و رحمت ہمیشہ ان کے شامل حال تھی۔ وہ گناہوں سے یکسر پاک اور ایسے نیک تھے کہ گناہ کا کبھی سوچا ہی نہیں اور اپنے ماں باپ کے ایسے مطیع و فرمانبردار تھے کہ کبھی بھی ان کے سامنے کسی بات پر نہیں اکڑے اور نہ ان کی نافرمانی کی (عصیا) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کے نافرمان بندے نہیں تھے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام آفات و بلیات سے امن و سلامتی کی خبر دے دی، اور ان کے لیے سلام و تحیہ بھیج دیا، جس دن وہ پیدا ہوئے اس دن شیطان کے چونکا لگانے سے امان میں رہے اور جب وفات پائی تو قبر کے فتنوں سے محفوظ رہے، اور جب دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو انہیں کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہوگ، یہ اللہ تعالیٰ کا یحی پر انعام خاص اور انتہائے عنایت تھی کہ ان تینوں حالات میں انہیں اللہ کا امن و امان حاصل رہا، جب آدمی شدید غربت و وحشت محسوس کرتا ہے اور ضرور محسوس کرتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت