(2) مومن و کافر، صالح و طالح اور نیک و بد کے انجام میں جو فرق ہے اور جسے اوپر بیان کیا گیا ہے اسی کی مزید تشریح کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جس نے مال پر عائد کردہ حقوق کو ادا کیا، زکاۃ ادا کی، اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اور دیگر خیر کے کاموں میں سے خرچ کیا اور تقویٰ کی راہ اختیار کی، اللہ پر ایمان لایا، اس کی بندگی کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنایا، محرمات و معاصی سے بچتا رہا اور اس بات پر یقین رکھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی راہ میں مال خرچ کرنے والے کو اس کا عوض اور بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے، جیسا کہ امام بخاری وغیرہ نے روایت کی ہے کہ ہر روز دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ ! تو اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو اس کا عوض اور بدلہ دے دے اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ ! تو اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کا مال ضائع کر دے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم دنیا میں ایسے آدمی کے لئے ان نیک کاموں کو آسان بنا دیتے ہیں جو ہماری رضا اور خوشنودی کا سبب ہوتے ہیں اور آخرت میں اسے جنت میں داخل کردیں گے۔
اور جو اپنے مال سے اللہ کے عائد کردہ حقوق کو ادا نہیں کرتا اور صدقہ و خیرات نہیں کرتا، اور اپنے مال و اولاد اور جاہ و حشمت کے نشے میں، نیک اعمال کر کے ہماری قربت حاصل نہیں کرتا، اور اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ ہماری راہ میں خرچ کئے ہئے مال کا عوض اور بدلہ ہم دنیا میں بھی دیتے ہیں تو ہم اسے ان برے اعمال کی راہ پر لگا دیتے ہیں جو دنیا میں ہماری ناراضگی کا سبب ہوتے ہیں، اور آخرت میں اسے جہنم میں داخل کردیں گے۔
آیت (11) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص بخل کی وجہ سے ہماری راہ میں مال خرچ نہیں کرے گا، طلب رضائے الٰہی کی کوشش نہیں کرے گا اور ہماری راہ میں خرچ کردہ مال کے عوض کا یقین نہیں رکھے گا، جب وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا، اس وقت وہ مال اس کے کسی کام نہیں آئے گا اور سر کے بل جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔