فهرس الكتاب

الصفحة 4381 من 6343

(6) مشرکین مکہ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو یعنی فرشتوں کو اس کی بیٹیاں کہا۔ اس سے بڑھ کر جھوٹ اور کفر کیا ہوسکتا ہے۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اللہ کے ساتھ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑھ کرکفران نعمت اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو اعتراف کرتے ہیں کہ وہی ذات واحد خالق ارض و سماء ہے، اس کا کوئی ثانی نہیں ہے اور پھر اس کے لئے جسم اور اولاد ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی وہ اولاد اس کے مماثل و مشابہ ہے۔

آیت (16) میں ان کے اسی فعل شنیع پر نکیر کی گئی ہے کہ اللہ کی شان بے نیازی کے خلاف ان کی جرأت دیکھئے کہ انہوں نے اس کے لئے اولاد بھی ٹھہرایاتو ایسی جسے اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہیں، یعنی بیٹیاں جن سے ان کی نفرت کا حال یہ ہے کہ جب انہیں خبر دی جاتی ہے کہ ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو غم والم سے ان کے چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور ان کے دل کرب و اذیت سے بھر جاتے ہیں۔

اللہ کے خلاف ان کی کیسی جرأت بے جا اور ڈھٹائی ہے کہ جن لڑکیوں کی پرورش (ان کے اندر موجود نقص کو پورا کرنے کے لئے) زینت و زیورات میں ہوتی ہے اور جو خفیف العقل ہونے کی وجہ سے اپنا مافی الضمیر بھی صحیح طور پر ادا نہیں کرسکتیں، انہیں وہ اللہ تعالیٰ کا جزء اور حصہ بتاتے ہیں۔

جو فرشتے لیل و نہار اپنے خالق و مالک کی تسبیح و تقدیس میں لگے ہوتے ہیں، انہیں اپنی غایت درجہ کی جہالت و نادانی کی وجہ سے عورتیں کہتے ہیں، کیا جب اللہ نے انہیں پیدا کیا تھا اس وقت وہ موجود تھے اور انہیں علم ہوگیا تھا کہ اللہ نے انہیں مؤنث پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی قدر و منزلت کے خلاف یہ بڑی ہی ظالمانہ جرأت ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن ان سے سوال ہوگا اور کہا جائے گا کہ اپنے دعویٰ کی صداقت پر دلیل و برہان پیش کرو، لیکن وہ عاجز رہیں گے اور تب انہیں ذلت و سروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت