فهرس الكتاب

الصفحة 4606 من 6343

(8) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام کو اسلام کی تعلیم دینے کے لئے جب خطبہ دیتے، تو منافقین بھی شریک ہوتے، اور ظاہر کرتے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں خوب غور سے سن رہے ہیں اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے باہر آتے تو علمائے صحابہ (عبداللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود اور ابوالدرداء وغیرہم) سے استہزاء کے طور پر پوچھتے کہ ابھی اس نے (یعنی محمد نے) کیا بیان کیا ہے، ہماری سمجھ میں تو اس کی باتیں نہیں آتی ہیں؟! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ منافق ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے، اس لئے خیر کی کوئی بات ان میں داخل ہی نہیں ہوتی ہے، اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، اسی لئے قبول حق کے بجائے کفر و نفاق پر مصر ہیں۔

ان منافقین کے برعس جن صحابہ کرام نے راہ حق کو اپنایا، اللہ پر ایمان لائے، اور عمل صالح کیا، انہیں اللہ نے اتباع حق کی مزید توفیق دی اور تقویٰ والی زندگی گذارنے پر ان کی مدد فرمائی، یعنی انہیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق سے نوازا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت