فهرس الكتاب

الصفحة 3307 من 6343

(15) موسیٰ (علیہ السلام) کی شادی دونوں لڑکیوں میں سے ایک سے ہوگئی ور عہدنامہ کے مطابق شعیب (علیہ السلام) کے گھر رہنے لگے ابن ابی شیبہ اور بخاری وغیرہما نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ان کی خدمت دس سال تک کی، ابن جریر، حاکم اور ابن مردویہ وغیرہم نے یہی بات رسول اللہ سے روایت کی ہے۔ مدت پوری کرنے کے بعد جب اپنے اہل وعیال کولے کرمصر کی طرف روانہ ہوئے تو کوہ طور کے قریب رات کے وقت راستہ بھٹک گئے اور بالکل پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے سخت سردی پڑرہی تھی دیکھا کہ پہاڑکی جانب سے روشنی آرہی ہے سمجھا کہ وہاں کچھ لوگ ہیں جنہوں نے آگ جلارکھی ہے اس لیے اپنے بال بچوں سے کہا کہ تم سب یہیں ٹھہرو، میں راستہ پوچھ کر آتا ہوں یاکم ازکم تمہیں گرمی پہنچانے کے لیے آگ لے کر آتا ہوں وہاں جب پہنچے تو بات ہی کچھ اور تھی وہ جگہ تو تجلی الٰہی کے سبب ایک مبارک وادی بن چکی تھی جس کے دائیں جانب موجود ایک درخت کے درمیان سے آواز آئی کہ، اے موسی، میں ہی اللہ ہوں جو سارے جہاں کا پالنہار ہے آپ ہے آپ کے ہاتھ میں جو لاٹھی ہے اسے زمین پر ڈالیے ڈالتے ہی ایک ڈراؤنا سانپ بن کر تیزی کے ساتھ حرکت کرنے گی، موسیٰ یہ کیفیت دیکھ کر ڈر گئے اور پیچھے مڑ کر بھاگ پڑے اور واپس نہیں آنا چاہا تو آواز آئی کہ اے موسیٰ واپس آئے اور خوف نہ کھائیے آپ ہر شر وبلا سے مامون ہیں یہ سب سے بڑا معجزہ تھا جو انہیں عطا کیا گیا تھا حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں اس معجزے کے اظہار کا مقصد یہ بھی تھا کہ انہیں یقین ہوجائے کہ وہ اس اللہ سے ہم کلام ہیں جو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا، تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ واپس آکر جب پہلی جگہ کھڑے ہوئے تو پھر آواز آئی کہ آپ کے رب کی جانب سے یہ دو معجزے ہیں جو آپ کے نبی مرسل ہونے کی دلیل ہیں انہیں لے کر آپ فرعون اور فرعونیوں کے پاس جائیے جنہوں نے کفر وسرکشی کی راہ اختیار کی ہے میرے سوا غیروں کی عبادت کرتے ہیں اور انہوں نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنارکھا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت