39 قیامت کے دن حسابو کتاب اور جزا و سزا کے فیصلے کے وقت مشرکین کے دل و دماغ خوف و دہشت سے پر ہوں گے، وہ کہیں بھاگ کر نہ جا سکیں گے اور عذاب نار سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی، انہیں بہت ہی قریب سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اس وقت وہ کہیں گے کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یا قرآن) پر ایمان لے آئے، لیکن اب وہ ایمان کو کہاں پا سکیں گے، وہ تو اس سے بہت دور، بہت دور جا چکے ہوں گے، وہ تو میدان محشر میں ہوں گے اور ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی جب ایمان لانا مفید تھا، اور وہ نعمت ان سے بہت ہی قریب تھی، تو اس سے غافل تھے اور اب جبکہ وہ نعمت ان سے بہت دور ہوچکی ہے تو اس کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں اب وہ اسے ہرگز نہیں پا سکیں گے۔
آیت 53 میں مذکور بالا مضمون کی توثیق ہے کہ دنیا میں ان مشرکین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کردیا تھا اور محض وہم و گمان کی بنیاد پر انہیں جادوگر، شاعر اور مجنوں کہا تھا، نیز موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کردیا تھا۔