فهرس الكتاب

الصفحة 5220 من 6343

(11) اس آیت کریمہ کو " بیعۃ النساء" والی آیت کہتے ہیں اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے وقت اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عورتوں سے بیعت لینے کی اجازت دی ہے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا پہاڑی پر بیٹھ کر ان عورتوں سے بیعت لی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جوق در جوق آ کر اسلام میں داخل ہو رہی تھی۔

بخاری، ترمذی اور دیگر محدثین نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ مسلمان عورتیں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ایمان کا امتحان لیتے تھے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے ایمان کی طرف سے اطمینان ہوجاتا تھا، تو ان سے کہتے کہ میں نے تم سے بات کے ذریعہ بیعت لے لی ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ کا ہاتھ کسی بیعت کرنے والی عورت کے ہاتھ سے کبھی مس نہیں کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نیتم سے بیعت لے لی۔

نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہم نے امیمہ بنت رقیقہ سے روایت کی ہے کہ وہ کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیعت کے لئے آئیں، تو بیعت کرتے وقت کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ہم سے مصافحہ نہیں کریں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ہوں۔ (الحدیث)

شوکانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اہل مکہ کی عورتیں آپ کے پاس بیعت کے لئے آئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ ان عورتوں سے مندرجہ ذیل امور پر بیعت لیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں، چوری نہ کریں، زمانہ کریں، اپنی اولاد کو قتل نہ کیں۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ قتل کی ممانعت، بچہ کے وجود میں آجانے کے بعد، اور ولادت سے قبل جب بچہ رحم مادر میں ہوتا ہے دونوں حالتوں کو شامل ہے۔ انتہی اور اپنے شوہروں کی طرف دوسروں کی اولاد کو منسوب نہ کریں۔ قرآن کریم نے اس افترا پردازی کو اس بہتان کا نام دیا ہے جسے عورت اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے درمیان گھڑتی ہے، اس لئے کہ اس کا پیٹ جس میں بچہ کو ڈھوتا ہے اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوتا ہے، اور وہ شرمگاہ جہاں سے بچہ کو جنتی ہے، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان ہوتی ہے اور آخری بات یہ ہے کہ وہ آپ کے اوامرو نواہی کی نافرمانی نہ کریں ان امور پر ان سے بیعت لیجیے اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کیجیے وہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا ہے اور بے حد مہربان ہے۔

اس کے بعد شوکانی لکھتے ہیں کہ بیعت میں اسلام کے ارکان خمسہ کا ذکر اس لئے نہیں آیا ہے کہ یہ چیزیں بدرجہ اولیٰ بیعت میں داخل ہیں۔ آیت میں ان گناہوں کا بطور خاص ذکر آیا ہے جن کا ارتکاب بالعموم عورتیں کرتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت