فهرس الكتاب

الصفحة 261 من 6343

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ انبیاء و رسل کے درمیان گوناگوں فضائل وصفات میں تفاوت رہا ہے، بعض انبیاء کو اللہ نے کوئی ایسی فضیلت دی جو دوسروں کو نہیں ملی، ابراہیم کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا، موسیٰ سے بغیر کسی واسطے کے بات کی، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام بنی نوع انسان سے رفیع المرتبت بنایا، کہا جاتا ہے کہ اللہ نے آپ کو ایک ہزار سے زیادہ نشانیاں دی تھیں، اور سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم تھا، جو تنہا تمام انبیاء پر فوقیت حاصل کرنے کے لیے کافی تھا۔ اور عیسیٰ بن مریم کو دیگر معجزات دئیے جن کے ذریعہ اللہ کے حکم سے اندھے کو بینائی اور برص والے کو شفا ملتی تھی، مردوں کو زندہ کرتے تھے، اور جب گود ہی میں تھے تو لوگوں سے بات کی، اور اللہ نے روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کی، یعنی جبرئیل امین کے ذریعہ، یا اس مقدس روح کے ذریعے جو اللہ نے ان میں پھونکی تھی۔

انبیائے کرام کے کمال و ظمت اور ان کے ساتھ بھیجی گئی نشانیوں کا تقاضا یہ تھا کہ سارے انسان ان پر ایمان لے آتے، لیکن ایسا نہ ہوا، اور اکثر و بیشتر لوگ سیدھی راہ سے برگشتہ ہوگئے، اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے، حالانکہ اللہ چاہتا تو سب کو ایک راہ ہدایت پر ڈال دیتا، لیکن اللہ کی حکمت اس کی مقتضی ہوئی کہ نظام عالم کو اسباب سے جوڑ دیا جائے۔

فائدہ: آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے افضل بنایا ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث انا سید ولد آدم کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، اس لیے صحیحین میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث لاتفضلونی علی الانبیاء یعنی مجھے دیگر انبیاء پر فوقیت نہ دو، آپ کی طرف سے تواضع پر محمول کی جائے گی،

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت