(38) اس آیت میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک تیسرے طریقہ سے تسلی دی جارہی ہے کہ اگر کافروں کا ایمان نہ لانا آپ پر گراں گذرہا ہے، تو آپ زمین کے کسی سرنگ سے، یا سیڑھی گا کر آسمان سے ان کے لیے کوئی ایسی نشانی لے آیئے جو انہیں ایمان لانے پر مجبور کردے۔ لیکن آپ ایسا نہیں کرسکتے، اس لیے کہ اللہ نے آپ کو ایسی قدرت نہیں دی ہے کہ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر ایمان لانا ضروری ہوجاتا لیکن ایسا ایمان ان کے لیے غیر نافع ہوتا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ چاہتا تو تمام انسانوں کے راہ ہدایت پر جمع کردیتا، لیکن اس کی مشیت نے عایت قہر اور غایت لطف و مہر بانی کے اظہار کی غرض سے ایسا نہیں کیا، اس لیے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کے ایمان کی شدید تمنا، یا ان کی مانگ پوری کرنے شدید خواہش کرکے ان نادانوں میں سے نہ بن جا یئے جنہیں اللہ کی مشیت یا اس کی حکمت ومصلحت کے تقاضوں کا پتہ نہیں۔