11۔ اوپر بیان ہوا کہ کافروں کو ان کے تمام دنیاوی قوت و اسباب کام نہ آئے، اور جنگ بدر میں گاجر مولی کی طرح قتل کردئیے گئے اب اسی دنیا اور اس کی لذتوں کی حقارتِ شان بیان کر کے لوگوں کو اللہ کی جنت کے حصول کی ترغیب دلائی جا رہی ہے۔
حب الشہوات میں اس طرف اشارہ ہے کہ آدمی اپنی شہوتوں سے اندھی محبت کرتا ہے، حالانکہ یہ شہوتیں جب حد اعتدال سے بڑھ جاتی ہیں تو اصحاب حکمت و دانائی کے نزدیک قابل حقارت ہوجاتی ہیں۔ اور ان کا غلام بہائم سے قریب ہوجاتا ہے، بخاری کی روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ اور اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا، ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروہم، یعنی تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دشمن ہیں، تم ان سے بچ کر رہو، (التغابن، 14) اور فرمایا۔ کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، یعنی انسان اپنے آپ سے باہر ہوجاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو دولت میں گھرا دیکھ لیتا ہے۔