(13) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والے اپنے مومن بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ قیامت تک کافروں کے علاقے فتح کرتے رہیں گے، جس کے سبب بہت سارے اموال غنیمت انہیں حاصل ہوتے رہیں گے، انہی میں سے وہ اموال غنیمت بھی ہیں جو اللہ نے جلدی ہی خیبر میں انہیں عطا کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر یہ بھی احسان کیا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے، اس وقت یہود مدینہ نے یہود خیبر کے ساتھ مل کر سازش کی کہ وہ مسلمانوں کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سب مل کر یکبارگی مدینہ پر حملہ کردیں گے اور صحابہ کرام کے بال بچوں کو قتل کردیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ اپنی سازش کو بروئے کار نہ لا سکے۔
اور حصول مال غنیمت اور اللہ کی جانب سے یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال کر انہیں مدینہ پر حملہ کرنے سے باز رکھنا اس لئے ہوا تاکہ مسلمان جان لیں کہ اللہ کے نزدیک ان کا بڑا مقام ہے اور وہ ان کی مدد ضرور کرے گا اور انہیں ضرور فتح و کامرانی ملے گی اور ایسا اس لئے بھی ہوا تاکہ مسلمانوں کے یقین و بصیرت میں اضافہ ہو اور اللہ کے فضل و کرم پر ان کا اعتماد زیادہ سے زیادہ بڑھ جائے۔
آیت (21) میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو غنائم خیبر کے علاوہ دوسرے ایسے غنائم بھی جلدی ہی دیئے، جنہیں پانے کی ان کے اندر طاقت نہیں تھی، اللہ نے ہر طرف سے ان غنائم کو گھیر رکھا، یہاں تک کہ مسلمانوں نے جہاد کر کے اس علاقے پر قبضہ کیا، اور وہاں پائے جانے والے اموال غنیمت پر قابض ہوگئے۔
(واخری لم تقدروا علیھا) سے کس جگہ کے اموال غنیمت مراد ہیں، اس بارے میں علمائے تفسیر کا اختلاف ہے، ابن عباس، مجاہد حسن اور مقاتل نے اس سے وہ تمام فتوحات مراد لئے ہیں جو اللہ نے مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے بعد عطا کئے، ان میں فارس اور روم کے علاقے بھی شامل ہیں، صحاک وغیرہ کا خیال ہے کہ اس سے مراد " فتح خیبر" ہے اور قتادہ اور ابن جریر کہتے ہیں کہ اس سے مراد " فتح مکہ" ہے اور عکرمہ کے نزدیک اس سے مراد " حنین" ہے۔ شوکانی نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے۔