فهرس الكتاب

الصفحة 4640 من 6343

(8) اس آیت کریمہ میں مدینہ کے آس پاس رہنے والے دیہاتی قبائل کا حال بیان کیا گیا ہے، جن کے نام غفار، مزینہ، جہینہ، اسلم، اشجمع اور دئل تھے، صلح حدیبیہ کے سال، عمرہ کے لئے مکہ کی طرف روانگی سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بھی اپنے ساتھ چلین کو کہا تھا، لیکن کفار قریش کے ڈر سے یہ لوگ نہیں گئے، ان کا خیال تھا کہ قریش مسلمانوں کا خاتمہ کردیں گے، اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آسکے گا ان کی اسی بدنیتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں اپنے رسول کی صحبت اور بیعت رضوان جیسی یا برکت بیعت اور اس کے فضائل و برکات سے محروم رکھا انہی دیہاتیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! جب آپ مدینہ پہنچیں گے تو وہ دیہاتی آپ کے پاس آ کر عذر لنگ پیش کریں گے اور کہیں گے کہ ہم اپنے کاروبار میں لگے رہ گئے اور ہماری عدم موجودگی میں ہمارے بال بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے بھی نہیں تھے، اسی لئے ہم آپ کے ساتھ نہیں جا سکے تھے، آپ ہمارے رب سے ہمارے لئے مغفرت طلب کردیجیے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کا نفاق ظاہر کیا اور انہیں جھٹلاتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں، وہ تو شک و نفاق میں مبتلا ہیں اور آپ سے طلب استغفار میں بھی صادق نہیں ہیں اس لئے کہ وہ اپنے کئے پر نادم اور اپنے گناہ سے تائب نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی ان سے کہا کہ اگر اللہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے، یا تمہیں نفع ہی پہنچانا چاہے، تو اسے اس کے ارادوں سے کوئی نہیں روک سکتا ہے یعنی تمہارے نفاق اور کذب بیانی کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طلب مغفرت کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور آخر میں دھمکی کے طور پر ان سے کہا کہ اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے اور وہ تمہیں اس کا بدلہ ضرور چکائے گا۔

آیت (12) میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی ہی ان سے کہا گیا ہے کہ تم یہ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانان مدینہ میں سے کوئی بھی بچ کر نہ آسکے گا، کفار قریش ہم میں سے ایک ایک کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے اور شیطان نے تمہارے دلوں میں اس خیال کو خوب پختہ کردیا کہ اب ہمارا رب ہماری مدد نہیں کرسکے گا اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی واپس نہیں لوٹے گا یہی اصل وجہ تھی کہ تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں گئے، وہ عذر صحیح نہیں ہے جو تم نے اپنی زبان سے بیان کیا ہے۔

اور تم اپنے اسی نفاق، کذب بیانی اور مسلمانوں کے ساتھ غداری کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی اور اپنی ہلاکت و بربادی کے مستحق بن گئے ہو۔

آیت (13) میں ان کے اسی انجامبد کی تاکید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا، ایسے کافروں کی سزا کے لئے ہم نے جہنم کی بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

اور آیت (14) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا وہی مالک و حاکم ہے اور وہی ان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اس لئے اے وہ لوگو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمرہ کے لئے جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، اب بھی موقع ہے کہ اپنے اس گناہ کی اللہ سے معافی مانگو اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طاعت کا عہد کرو، تاکہ وہ تمہارے گناہ معاف کر دے، اس لئے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت