فهرس الكتاب

الصفحة 2453 من 6343

(32) بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم نے اپنی مرضی سے آپ سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، بلکہ ہوا یہ کہ ہماری عورتوں کے پاس فرعونیوں کے جو زیورات تھے جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو سامری نے ہم سے کہا کہ یہ تاخیر اس لیے ہورہی ہے کہ تمہارے پاس فرعونیوں کی عورتوں کے جو زیورات ہیں وہ تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اس لیے تم لوگ ان سے چھٹکارا حاصل کرلو۔ چنانچہ ہم نے تمام زیورات کو ایک گڈھے میں پھینک دیا، پھر سامری نے ان زیورات سے ایک بچھڑا بنا لیا جس سے ایک آواز نکلنے لگی، تو سامری اور اس کے ساتھیوں نے لوگوں سے کہا کہ یہی ہمارا اور موسیٰ کا رب ہے، موسیٰ نے غلطی کی ہے کہ اپنے رب کی تلاش میں کوہ طور کی طرف گئے ہیں۔

آیت (89) میں اللہ تعالیٰ نے انہی بچھڑے کے پچجاریوں کی عقل پر ماتم کیا ہے کہ کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ وہ بچھڑا نہ ان کی کسی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی نفع و نقصان اس کے اختیار میں ہے، پھر اس کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت