(17) آپ اور آپ کے بھائی ہارون جن کے لیے آپ نے دعا کی ہے میرے دونوں معجزات لے کر جن کا ظہور میری قدرت سے آپ کے سامنے ہوچکا ہے، دعوت کے لیے آگے بڑھیے، اور آپ دونوں پر اب تک میں جو احسانات و انعامات کیے ہیں، انہیں یاد رکھیے، اور تبلیغ رسالت میں تندہی سے کام لیجیے۔
آیات (43، 44) میں مذکور بالا اجمال کی تفصیل ہے کہ آپ دونوں میرا پیغام لے کر فرعون کے پاس جایے جس نے سرکشی کی راہ اختیار کرلی ہے اور اپنے آپ کو ایک بندہ عابد و عاجز ثابت کرنے کے بجائے رب اور معبود ہونے کا دعوی کربیٹھا ہے اور دیکھیے آپ دونوں کا اسلوب بیان نرم ہونا چاہیے، اس لیے کہ نرم گفتگو بڑے ظالموں اور سرکشوں کو بھی بسا اوقات موم بنا دیتی ہے۔ (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل آیت 125 میں فرمایا ہے:) (ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن) اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجیے۔ شاید کہ آپ دونوں کی باتیں اسے غور و فکر پر مجبور کردیں، اور وہ ایمان و ہدایت کی راہ اپنا لے، یا ڈرے کہ اگر کفر و ظلم پر مصر رہا تو اللہ کا عذاب اسے اپنی گرفت میں لے لے گا۔