(3) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوبارہ بطور تاکید کہا جا رہا ہے کہ اب کبھی آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ مسلمان فقراء و مساکین سے منہ پھیر کر کبرو و غرو روالے کافروں کی طرف یکسر متوجہ ہوجائیں، چنانچہ اوپر انس (رض) کی روایت گذر چکی ہے کہ اس واقعے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن ام مکتوم کا بڑا خیال رکھتے تھے۔
اس واقعے میں دوسروں کے لئے عبرت ہے کہ جب ایسے برتاؤ پر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عتاب فرمایا، جن کا عظیم مقام اللہ کے نزدیک سب کو معلوم ہے تو پھر دوسرے اگر ایسا کریں گے تو ان کا انجام کیا ہوگا، بعض مفسرین کرام نے " انھا تکرۃ" میں " ھا" کا مرجع ان آیات میں موجود اس نصیحت کو مانا ہے کہ دعاۃ الی اللہ کو لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں مساوات کا خیال رکھنا چاہئے۔
آیت (12) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کی جانب سے یہ ایک بہت بڑی نصیحت ہے، جس سے جو چاہے، اس پر عمل کر کے فائدہ اٹھالے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف آیت (29) میں فرمایا ہے: (فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر) " جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کیر" یعنی جو چاہے ایمان لا کر اپنی عاقبت سدھار لے۔