فهرس الكتاب

الصفحة 1018 من 6343

(45) جو زمین ذرخیز ہوتی ہے اسی میں اللہ کے حکم سے پودے اچھے اور نفع بخش نکلتے ہیں، اور جوخراب ہوتی ہے جیسے کالے پتھروں والی یا بنجر زمین اس میں اچھے پودو نہیں پیدا ہوتے اور جو پیدا ہوتے ہیں وہ نفع بخش نہیں ہوتے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ذریعہ مومن و کافر کا حال بیان کیا ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ مومن قرآن کریم سن کر اسے یاد کرتا ہے اور اس کے معانی کو اپنے دل میں جگہ دیتا ہے، اور اس سے مستفید ہوتا ہے اس زرخیز زمین کی مانند جس میں بارش ہونے بعد پودے اگتے ہیں، لیکن کافر کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ؛ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت او علم دے کر بھیجا ہے اس کی مثال مو سلادھار بارش کی ہے، اچھی زمین اسے قبول کرلیتی ہے، پھر اس میں پودے اور بہت ساری سبزیاں اگتی ہیں، اور خشک اور سخت زمین پانی کو روک لیتی ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھا تے ہیں، پیتے ہیں جا نوروں کو سیراب کرتے ہیں، اور چیٹل اور تھلی زمین میں نہ پانی رکتا ہے، اور نہ کوئی گھاس اگتی ہے یہ مثال آدمی کی ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھ کر حاصل کیا اور اس چیز سے مستفید ہوا جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا چناچہ اس سے علم حاصل کیا اور دوسروں کو تعلیم دے اور یہ مثال اس آدمی کی ہے جس نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ اس ہدایت کو قبول کیا جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت