فهرس الكتاب

الصفحة 4037 من 6343

(17) ایک بار ایسا ہوا کہ شام کے وقت عمدہ جنگی گھوڑوں کی ان کے سامنے نمائش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے ان گھوڑوں کو اپنے رب کی راہ میں جہاد کی خاطر پسند کیا ہے، جب وہ گھوڑے دوڑتے ہوئے آنکھوں سے اوچھل ہوگئے تو انہوں نے حکم دیا کہ انہیں واپس لایا جائے اور جب سارے گھوڑے واپس آگئے تو از راہ لطف و محبت ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر اپنے سہلانے لگے۔

حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے، بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی نمائش میں ایسا مغشول ہوئے کہ عصر کی نماز کا وقت گذر گیا اور علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔ ابن جریر نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ انتہی

فخر الدین رازی نے بھی تقریباً اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ قرآن کے الفاظ اسی تفسیر کے مطابق ہیں۔

صاحب محاسن التنزیل لکھتے ہیں کہ رازی سے پہلے حافظ ابن حزم نے یہی تفسیر بیان کی ہے اور گھوڑوں کے قتل کو من گھڑت کہانی قرار دی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت