فهرس الكتاب

الصفحة 806 من 6343

(14) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ کافروں سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے، اور اس سوال کا مقصد ڈانٹ اور پھٹکارہے، پھر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ خود ہی جواب دے دیجئے کہ اللہ کے علاہ اور کون ہوسکتا ہے اور یہ جواب کافروں کو بھی معلوم ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

(15) یہ جملہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی ادا کیا گیا یعنی آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے، توبہ واستغفار کو قبول کرتا ہے، اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، اور عقاب وغضب کے احکام قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان کا تعلق بندوں کے اعمال سے ہے، اور اسی صفت رحمت کا تقاضا تھا کہ اللہ نے انسانوں کو فطرت سلیم دیا، اپنی معرفت وتوحید کی طرف ان کی وہنمائی کی، انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں صحیحین کی روایت ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے" (16) اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال الوہیت اور کمال رحمت بیان کرنے کے بعد، آیت کے اس حصہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ خبر دی ہے کہ رحمت الہی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ انہیں دنیا میں مہلت دے گا اور انہیں بالکل نہیں ختم کرے گا لیکن قیامت کے دن ان سب کو اکھٹا کرے گا اور ان کرتوتوں پر ان کا محاسبہ کرے گا۔"

(17) یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی زبانی ہے اور اس میں کافروں ج کی بدترین حالت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگوں نے اپنی پونجی ضائع کردی جن کی فطرت مسخ ہوگئی اور جنہوں نے عقل سلیم کھودی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حیات بابرکات اور نزول وحی سے فائدہ نہیں اٹھا یا ایسے لوگ قیامت پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس دن کے برے انجام سے وہ ڈریں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت