سورۃ القلم مکی ہے، اس میں باون آیتیں اور دو رکوع ہیں
تفسیر سورۃ القلم
نام: پہلی آیت: (ن واقلم ومایسطرون) سے ماخوذ ہے، اس سورت کو " سورۃ ن" اور " سورۃ القلم" دونوں ہی کہا جاتا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت حسن، عکرمہ اور جابر کے نزدیک مکی ہے اور ابن عباس اور قتادۃ سے مروی ہے کہ ابتدائے سورت سے آیت (16) (سنسمہ علی الخرطوم) تک مکی ہے، اور وہاں سے آیت (50) (من الصالحین) تک مدنی ہے اور اس کے بعد کی دو آیتیں مکی ہیں اور نحاس، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ " ن" مکی ہے اور ابن مردویہ نے عائشہ (رض) سے بھی یہی روایت کی ہے۔