11۔ فرعون جب موسیٰ (علیہ السلام) کی اس معقول اور مدلل گفتگو سے بالکل لاجواب ہوگیا، اور اسے یقین ہوگیا کہ موسیٰ اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے عزم صادق کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، تو ڈرانے اور دھمکانے والا طریقہ اختیار کیا جو ہمیشہ ان متکبروں کا طریقہ رہا ہے جن کے پاس اپنے دعوی کی صداقت کے لیے دلائل نہیں ہوتے
اس نے کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تمہیں جیل کی اندھیر کوٹھڑی میں ڈال دوں گا جہاں مر کر سڑ گل جاؤ گے۔ کہتے ہیں کہ فرعون کی جیل قتل سے بد تر تھے، جہاں ہر آدمی کو زمین کے نیچے ایک تنگ اور گہری کھائی میں ڈال کر چھوڑ دیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہیں مرجاتا تھا۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا یہ جواب سن کر سمجھ لیا کہ فرعون ان کے دلائل کے سامنے بالکل لا جواب ہوگیا ہے، اور اس میں ایک گونہ کمزوری آگئی ہے، اسی لیے انہوں نے نرم اسلوب کلام اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کا معجزہ پیش کروں جو ثابت کردے گا کہ میں اپنے دعوی میں صادق ہوں؟ تو فرعون نے کہا ہاں، اگر سچے ہو تو پیش کرو۔