فهرس الكتاب

الصفحة 2277 من 6343

(6) زکریا (علیہ السلام) نے کہا، میرے رب ! مجھے کوئی نشانی بتا دے تاکہ جان سکوں کہ واقعی حمل قرار پا گیا ہے، اور میرے دل کو مزید اطمینان حاصل ہو، شوکانی لکھتے ہیں کہ اس سوال سے مقصود یہ تھا کہ جب حمل قرار پا جائے تو انہیں پتہ چل جائے اس لیے کہ بشارت دیتے وقت اس کا کوئی معین وقت نہیں بتایا گیا تھا۔ ابن الانباری کہتے ہیں کہ خوشخبری سن کر ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اب جلد ہی ان کے گھر بیٹا مولود ہو، اسی لیے انہوں نے چاہا کہ اللہ کی جانب سے ان پر جو احسان ہونے والا ہے اس کی کوئی فوری نشانی بتا دے جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کے لیے نشانی یہ ہوگی کہ زبان و جسم کے بالکل صحیح سالم ہونے کے باوجود تین دن اور تین رات کسی سے بات نہ کرسکیں گے۔ یہاں تین رات کا ذکر آیا ہے اور سورۃ آل عمران آیت (41) میں تین دن کا۔ اس لیے مراد تین دن اور تین رات ہے، جب زکریا (علیہ السلام) کی آواز بند ہوگئی تو محرام سے نکل کر فورا اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اشارہ کی زبان میں کہا کہ تم لوگ صبح و شام اللہ کی تسبیح و تحمید میں مشغول ہوجاؤ۔ یہاں اوحی کا معنی اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ سورۃ آل عمران میں رمزا کا لفظ اایا ہے، جس کا معنی اشارہ کرنا ہوتا ہے، مجاہد کہتے ہیں کہ انہوں نے زمین پر لکھ کر لوگوں سے بات کی تھی۔ عربی زبان میں وحیی لکھے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت