(1) ذیل میں مذکور تین آیتوں میں نیکوں اور گناہ گاروں کے ثواب و عقاب کا ذکر آیا ہے، تاک لوگ ان میں غور و فکر کریں، گناہوں سے اجتناب کریں، اور نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن سرداران کفر و ضلالت نے اللہ اور اس کی آیتوں کا انکار کیا، توحید باری تعالیٰ کے منکر ہوئے اور جھوٹے معبودوں کی عبادت کی اور اپنے آپ کو اور دوسروں کو دین اسلام میں داخل ہونے سے وکا، اللہ تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیا، بلکہ ان کو ان ہی کی گردنوں کا پھندا بنا دیا اور قیامت کے دن ان کے وہ نیک اعمال بھی رائیگاں ہوجائیں گے جنہیں وہ حالت کفر میں کرتے تھے اور توقع کرتے تھے کہ انہیں ان کا اجر ملے گا۔
اور جو لوگ تمام آسمانی کتابوں پر بالعموم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ قرآن پر بالخصوص ایمان لائے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کے تمام گزشتہ چھوٹے اور بڑے گناہوں کو معاف کر دے گا اور آئندہ کی زندگی میں انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے گا اور خیر کے کاموں کی توفیق دے گا۔
علمائے تفسیر لکھتے ہیں کہ اگرچہ قرآن کریم تمام آسمانی کتابوں میں داخل ہے، لیکن اس کا ذکر بطور خاص اس کی عظمت شان اجاگر کرنے اور اس بات کی تعلیم دینے کے لئے ہوا ہے کہ اس پر ایمان لائے بغیر ایمان کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اس معنی کی تائید، اس کے بعد والے جملے (وھوالحق من ربھم) سے ہوتی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کریم تمام گزشتہ آسمانی کتابوں کے لئے ناسخ ہے یعنی اس کے آجانے کے بعد اب کسی آسمانی کتاب کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔
آیت (3) میں مذکور بالا فیصلے کی علت بیان کی گئی ہے کہ کافروں کے اعمال اس لئے ضائع ہوئے کہ انہوں نے باطل یعنی شرک باللہ اور دیگر معاصی کا ارتکاب کیا اور مومنوں کے گناہ اس لئے معاف کردیئے گئے اور خیر کی راہ کی طرف ان کی اس لئے رہنمائی کی گئی کہ وہ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لائے، شرک سے دور رہے اور اچھے اعمال کئے دونوں جماعتوں کے حالات امتوں اور قوموں کے لئے ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں، یعنی جو کوئی بھی کافر ہوگا اس کے سارے اعمال رائیگاں ہوجائیں گے، قیامت کے دن اسے ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، اور جو مومن ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔