فهرس الكتاب

الصفحة 4897 من 6343

(30) مشرکین مکہ کی زجر و توبیخ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے کہا ہے کہ تم ان کی طرح نہ ہوجاؤ اور اپنے اللہ کا سجدہ کرو اس لئے کہ سجدہ ہی مقصود عبادت ہے، اسی کے ذریعہ بندہ اپنے خلاق و مالک کے سامنے حقیقی خشوع و خضوع کا اظہار کرتا ہے، عبادت کی یہی وہ کیفیت ہے جس میں بندہ اپنے جسم کا سب سے معزز عضو، یعنی اپنی جبین نیاز زمین پر رکھ کر اپنے رب کے سامنے اظہار عاجزی کرتا ہے۔

آیت کے آخر میں اللہ نے انہیں عموم عبادت کا حکم دیا، جو ہر اس قول و عمل کو شامل ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے۔

چنانچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش کے مجمع عام کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی اور آخر میں سجدہ کیا تو کفار بھی سجدہ میں گر گئے جیسا کہ اس سورت کی تفسیر کی ابتدا میں لکھا جا چکا ہے۔ وباللہ التوفیق

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت