(53) بہت سے مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت کریمہ میں انہی مومنین کا ذکر ہے جنہیں بھگا دینے کی بات شر فائے قریش نے کی تھی، تو اللہ نے انہیں یہ مقام عطا فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ انہیں سلام کرنے میں پہل کریں یا انہیں اللہ کی طرف سے سلام پہنچا دیں، اور انہیں وسعت رحمت الہی کی بشارت دے دیں، امام احمد اور شیخین نے ابو ہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا": جب اللہ تعال نے مخلوقات کے بارے میں فیصلہ کیا تو اپنی کتاب میں لکھ دیا (جو اس کے عرش پر موجود ہے) کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے"اس کے بعد والی آیت میں اللہ نے فرمایا کہ جس طرح ہم نے گذشتہ آیتوں میں بہت سے دلائل بیان کردیئے ہیں اسی طرح ہمیشہ اپنی آیتیں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو بیان کے محتاج ہوتے ہیں اور اراکہ معلوم ہوجائے کہ مجرمین کون سے راہ اختیار کرتے ہیں۔