فهرس الكتاب

الصفحة 1985 من 6343

(43) مفسر ابو السعود لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیتوں میں پانی، پودوں چوپایوں اور شہد کی مکھیوں میں پائے جانے والے عجائب و غرائب کو بیان کرنے کے بعد اس آیت میں انسان کی تخلیق سے متعلق عجائب کو بیان کیا ہے کہ وہ ابتدائے آفرینش سے آخری عمر تک چار مراحل سے گزرتا ہے، پہلا مرحلہ نشو ونما کا ہوتا ہے، دوسرا جوانی کا، تیسرا ادھیڑ عمر کا جس میں آدمی اپنی عمر اور صحت کے اعتبار سے زوال پیذیر ہونے لگتا ہے۔ اور چوتھا بوڑھاپے کا، جب کمزوری اور ناتوانائی اس کا لازمہ بن جاتی ہے اور جوں جوں اس کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے اس کی تمام جسمانی صلاحیتیں کمزور ہوتی جاتی ہیں، اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بالکل بچہ کے مانند ہوجاتا ہے اس کی عقل جاتی رہتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التین آیات (4، 5) میں فرمایا ہے: (لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ثم رددنہ اسفل سافلین) یقینا ہم نے انسان کو بہترین صفت میں پیدا کیا، پھر اسے نیچوں سے نیچا کردیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت