(33) آیات (50,49,48) میں بعث بعد الموت اور قیامت کے دن جزا و سزا کے عقیدے کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ہوا کو بھیجتا ہے جو بادل کو حرکت دیتی ہے اور وہ بادل اس کے حکم سے فضا میں اس کی حکمت و مصلحت کے مطابق پھیل جاتا ہے، کہیں گہرا ہوتا ہے تو کہیں ہلکا، کہیں زیادہ ہوتا ہے تو کہیں کم، پھر اللہ تعالیٰ دوبارہ اس کے ٹکڑے بنا دیتا ہے جن کے درمیان سے بارش کی بوندیں نکل نکل کر سطح زمین پر گرتی ہیں اور لوگ باران رحمت پا کر خوشیاں منانے لگتے ہیں اور خشکی اور قحط سالی کی وجہ سے انہیں جو حزن و ملال لاحق ہوتا ہے وہ دور ہوجاتا ہے آیت (50) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح وہ زمین کو باران رحمت کے ذریعہ زندگی دیتا ہے اور اس میں سبزے لہلہانے لگتے ہیں، اسی طرح وہ قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گا، اس لئے کہ وہ ذات برحق ہر چیز پر قادر ہے۔