فهرس الكتاب

الصفحة 3772 من 6343

19 جس عقیدہ بعث بعد الموت کی بات ابھی گذری ہے، اس کی عقلی دلیل یہ ہے کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمین مردہ ہوجاتی ہے، اس میں کوئی پودا نہیں اگتا، پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیج کر اسے زندہ کرتا ہے، اس میں دانے اگاتا ہے جسے لوگ کھاتے ہیں، اس میں کھجوروں اور انگوروں کے مختلف باغات پیدا کرتا ہے اور جو پانی زمین میں چلا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اسے چشموں کی صورت میں دوبارہ زمین پر بہاتا ہے، آدمی ان تمام نعمتوں کے مستفید ہوتا ہے، پھلوں اور دانوں کو کھاتا ہے اور ان پھلوں میں سے کسی کا رس نکالتا ہے تو کسی کو خشک کرلیتا ہے، یعنی مختلف طریقوں سے انہیں استعمال کرتا ہے، یہ گونگاوں نعمتیں کیا بندوں سے تقاضا نہیں کرتی ہیں کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شکریہ ادا کریں اور کیا یہ ساری باتیں اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ باری تعالیٰ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے؟!

آیت 63 میں مذکورہ بالا مضمون کی مزید تاکید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اس عیب اور عاجزی سے اپنی پاکی بیان کی کہ وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا، کیوں کہ وہ تو قادر مطلق ہے جس نے تمام نباتات اور انسان کو جوڑا جوڑا یعنی مذکر و مونث پیدا کیا ہے، اور آسمانوں اور زمین میں پائی جانے والی بہت سی دیگر اشیاء کو بھی جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے جن کی ہمیں خبر نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت