فهرس الكتاب

الصفحة 3786 من 6343

25 حسن بصری کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں (الذین کفروا) سے مراد یہود ہیں، جنہیں اللہ نے مال و دولت سے نوازا تھا، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ مدینہ کے فقیروں اور محتاجوں پر خرچ کریں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو کھلاتا، یہ تو صریح گمراہی ہے کہ ہم سے اللہ کی مرضی کے خلاف کرنے کو کہا جاتا ہے۔

مقاتل کا خیال ہے کہ ان سے مرا کفار قریش ہیں، عاص بن وائل سہمی سے جب کوئی غریب مسلمان کچھ مانگتا تو کہتا کہ اپنے رب کے پاس جاؤ جس پر ایمان لائے ہو خازن نے اپنی تفسیر میں اس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے تو اسے محروم بنا رکھا ہے اور میں اسے کھانے کے لئے دوں۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ یہود مدینہ یا کفار قریش یا دونوں ہی قسم کے لوگ ایسی بات مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لئے کہا کرتے تھے اور آیت 84 کے مطابق کفار قریش مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لئے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ تم لوگ جو قیامت اور جنت و جہنم کی بات کیا کرتے ہو اور ہمیں دھمکیاں دیتے ہو تو وہ قیامت کب واقع ہوگی؟ یعنی یہ بات سرے سے غلط ہے، اس کی کؤی حقیقت نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے آیت 94 میں ان کے اس استہزاء کا یہ جواب دیا کہ وہ تو ایک چیخ ہوگی جو انہیں اچانک پکڑ لے گی، جبکہ وہ اپنی عادت کے مطابق خرید و فروخت میں لگے ہوں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ کاروباری معاملات طے کرنے کے لئے لڑ رہے ہوں گے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ اس چیخ سے مراد پہلا صور ہے جسے زمین پر رہنے والا ہر آدمی سنے گا اور جو جہاں ہوگا اس کے زیر اثر وہیں مر جائے گا، اسی لئے آیت 05 میں کہا گیا کہ لوگوں کو اتنی بھی مہلت نہیں ملے گی کہ کسی کو کوئی وصیت کرسکیں، یا اپنے بال بچوں کے پاس جا کر ان کا حال معلوم کرسکیں۔ بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" قیامت اچانک برپا ہوجائے گی درانحالیکہ دو آدمی کپڑا پھیلا کر خرید و فروخت کرنا چاہتے ہوں گے، نہ اسے خرید و فروخت کر پائیں گے، نہ ہی اسے لپیٹ پائیں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی جبکہ آدمی پانی کا حوض درست کر رہا ہوگا، لیکن وہ اس میں اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکے گا اور قیامت آجائے گی جبکہ ٓدمی اپنی اونٹنی کا دودھ ہاتھ میں لئے ہوگا اور اسے پی نہ سکے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی جبکہ آدمی اپنا کھانا منہ کی طرف لے جا رہا ہوگا اور اسے کھا نہ سکے گا۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت