فهرس الكتاب

الصفحة 2201 من 6343

(22) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اس کی نعمتوں کی بے ثباتی کو مثال سے واضح کیا ہے کہ دنیا اپنی خوش رنگی اور زوال پذیر ہونے میں بارش کے اس پانی کے مانند ہے جسے اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل کرتا ہے اور جس کی وجہ سے زمین کے پودے لہلہا اٹھتے ہیں اور کثرت شادابی سے ایک دوسرے میں گتھ جاتے ہیں، پھر کچھ ہی دنوں کے بعد وہ پودے خشک ہو کر اور ٹوٹ پھوٹ کر بھس بن جاتے ہیں جنہیں ہوائیں ہر چہار جانب اڑائے لیے پھرتی ہیں، دنیا اور اس کی پرستش کرنے والوں کی یہی مثال ہے کہ انہیں یہاں جو بھی مقام و جاہ حاصل ہوتا ہے اس پودے کے مانند ہے جو لہلہا کر اچانک خشک ہوجاتا ہے اور بالاخر بھس بن جاتا ہے چونکہ دنیا کی بے ثباتی اس مثال سے بہت زیادہ واضح ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسے کئی مقام پر بیان کیا ہے۔ سورۃ یونس آیت (24) میں فرمایا ہے: (انما مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض مما یاکل الناس والانعام) بیشک دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی کی ہے جسے ہم آسمان سے بھیجتے ہیں جو زمین کے ان پودوں کے ساتھ مل جاتا ہے جنہیں لوگ اور چوپائے کھاتے ہیں۔ اور سورۃ الزمر آیت (21) میں فرمایا ہے: (الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فسلکہ ینابیع فی الارض ثم یخرج بہ زرعا مختلفا الوانہ) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے پھر اسی کے ذریعہ مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت