17۔ اس عظیم کامیابی کے کئی سال بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت خشکی کے بجائے سمندر کی طرف چل پڑیں، اور انہیں بتا دیا کہ فرعون اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ آپ کا پیچھا کرے گا، لیکن آپ بڑھتے چلے جائیے گا وہ لوگ آپ لوگوں کو نہیں پکڑ سکٰں گے،
فرعون کو جب خبر ہوئی تو اس نے اپنی فوجوں کو اکٹھا کرنے کا حکم دے دیا، اور بنی اسرائیل کو ان کی نگاہوں میں کمزور ظاہر کرنے کے لیے کہا کہ ان کی تعداد ہی کیا ہے، ان کی حرکتوں نے ہمیں ناراض کردیا ہے۔
واحدی کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تھی، اور ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق فرعونیوں کی تعداد شمار میں نہیں آتی تھی، اور ابن مسعود (رض) کے قول کے مطابق ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی، اور ان کا مقدمۃ الجیش ساتھ لاکھ پر مشتمل تھا۔