فهرس الكتاب

الصفحة 5902 من 6343

(4) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل امین کو ان کی اصلی صورت میں چھ سو پروں کے ساتھ مشرق کی جانب آسمان کے افق میں پہلی بار بایں طور دیکھا کہ پورا آسمانی افق ان کے وجود سے بھر گیا تھا حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: بظاہر یہ سورت واقعہ معراج سے پہلے نازل ہوئیتھی اس لئے کہ اس میں صرف اسی پہلی رویت کا ذکر آیا ہے، دوسری رویت جبریل کا ذکر سورۃ النجم میں آیا ہے جو سورۃ الاسراء کے بعد نازل ہوئیتھی، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (ولقد راۃ نزلۃ اخری، عند سدرۃ المنتھی، عندھا جنۃ الماوی) " آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل کو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہی کے پاس، اسی کے پاس جنۃ الماویٰ ہے" اور یہاں جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کے ذکر سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان سے اللہ کی وحی اور اس کا کلام حقیقی معنوں میں اور یقینی طور پر لیا، اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی جو بیش بہا وحی حاصل کی اسے پوری وسعت قلبی کے ساتھ بے کم و کاست امت تک پہنچا دیا، اس بایر میں ذرا بھی بخل سے کام نہیں لیا بلکہ پوری تفصیل کے ساتھ اسے امت کے لئے بیان کردیا اگر آپ کاہن ہوتے تو کاہنوں کی طرح بغیر اجرت لئے اسے دوسروں کو نہ بتاتے، اس لئے اے اہل قریش ! تمہارا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ محمد کان ہیں اور قرآن کسی مرد ود شیطان کا کلام ہے جسے وہ محمد کو سکھاتا رہتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت