(21) ذیل میں مذکور دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے ان سے متعلق تمام امور کو مقدر کردیا تھا چنانچہ اگر زمین کو یا انسانوں کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ لوح محفوظ میں پہلے سے نوشتہ ہے اور جو بات اس کے علم میں پہلے سے مقدر ہوچکی ہے اس کا واقع ہونا امر محتوم ہے اور اگرچہ عقل انسانی ان باتوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے، لیکن اللہ کے لئے یہب اتیں بہت ہی آسان ہیں، اس لئے کہ اس کا علم اور اس کی قدرت کاملہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ بات اس لئے بتائی ہے تاکہ یہ قاعدہ کلیہ ان کے ذہنوں میں ثبت ہوجائے اور خیر و شر جو بھی انہیں پہنچے اس کے بارے میں انہیں یقین رہے کہ یہ تو اللہ کی تقدیر تھی جسے بہر حال وقوع پذیر ہوتا ہی تھا، تاکہ جو چیز انہیں نہیں ملی ہے اس کا غم نہ کریں اور جو نعمت انہیں ملی ہے اس پر اترانے نہ لگیں بلکہ اپنے اس مولیٰ کا شکر ادا کریں جس نے انہیں اس نعمت سے نوازا ہے اسی لئے آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ وہ متکبر اور خود ستائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، جو اللہ کی نعمتوں کو اپنی عقل و صلاحیت اور جاہ وحشمت کی طرف منسوب کرتا ہے، اور غایت سرکشی میں آ کر کہتا ہے کہ (انما اوتیمتہ علی علم بل ھی فتنہ) یہ تو " مجھے محض میرے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے حالانکہ وہ نعمتیں اسے بطور آزمائش دی گئی ہیں"