10۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ہود کی ہلاکت کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کیا بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں (قرونا آخرین) سے مراد صالح، لوط اور شعیب علیہم السلام کی قومیں ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ ان سے مراد بنی اسرائیل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم و قدرت کے اظہار کے لیے فرمایا کہ جس کافر قوم کی ہلاکت و بربادی کا جو وقت مقدر ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یونس آیت (49) میں فرمایا ہے: (اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون) جب ان کا وقت مقرر آجائے گا تو ایک گھڑی نہ وہ پیچھے ہوسکیں گے اور نہ آگے۔
آیت (44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قوموں کے پاس انبیاء و رسل مسلسل بھیجتا رہا، لیکن ان میں سے اکثر و بیشتر لوگ ان انبیاء کی تکذیب کرتے رہے جس کے نتیجے میں ہم پے در پے انہیں ہلاک کرتے رہے، یہاں تک کہ دنیا ان کے وجود سے پاک ہوگئی، اور آنے والی نسلوں کے لیے صرف ان کے عبرتناک قصے رہ گئے۔