فهرس الكتاب

الصفحة 249 من 6343

336: یہ آیت ان لوگوں کی دلیل ہے، جو ہر مطلقہ عورت کے لیے متعہ کو واجب قرار دیتے ہیں۔ متعہ کا مطلب یہ ہے کہ طلاق کے بعد (مہر کے علاوہ) عورت کو کچھ دیا جائے۔ سعید بن جبیر اور ابن جریر وغیرہما کی یہی رائے ہے اور بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ (متعہ) ہر حال میں واجب نہیں۔ اگر مطلقہ کے ساتھ شوہر نے مباشرت نہیں کی ہے اور اس کی مہر بھی مقرر نہیں ہوئی تھی، تو اس کے لیے متعہ واجب ہے، دوسری تمام مطلقہ عورتوں کے لیے مستحب ہے۔ اور ان کی دلیل قرآن کریم کی وہ آیت ہے جو گذر چکی۔ لَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِیْضَۃً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِـنِیْنَ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت