9۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں کہا، میں نہیں سمجھتا تھا کہ ٹھوکر لگانے یا گھونسہ مارنے سے وہ آدمی مر جائے گا، میرا مقصد قتل کرنا ہرگز نہ تھا۔ میں تمہارے علاقے سے بھاگ کر مدین چلا گیا، اس ڈر سے کہ کہیں تم لوگ مجھے قتل نہ کردو۔ سورۃ القصص آیت 20 میں آیا ہے کہ آل فرعون کے ہی ایک مرد مومن نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی تھی کہ فرعون کے دربار میں ان کے قتل کی سازش ہو رہی ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ وہ یہاں سے نکل کر کہیں اور چلے جائیں۔ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکل کر مدین چلے گئے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا مجھے اللہ نے حکمت و نبوت سے نوازا ہے، اور اپنا رسول بنایا ہے، اور مجھ پر اپنے جس احسان کا تم ذکر کر رہے ہو تو وہ لائق ذکر نہیں ہے، اس لیے کہ تم نے تو میری پوری قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا ہے، مجھے تو تم نے اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ تم نے اپنے گمان کے مطابق مجھے اپنا بیٹا بنانا چاہتا تھا، یہ بھی تمہاری خود غرضی تھی۔
آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جس احسان کا تم ذکر کر رہے ہو، اس کا محتاج میں اس لیے ہوگیا تھا کہ تم نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا ہے، ان دنوں تم ان کے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے۔ اگر تم یہ ظلم نہ کرتے تو میری ماں مجھے دریائے نیل میں ڈال دینے پر مجبور نہ ہوتی اور میں تمہارے گھر نہیں پہنچتا، اور آج تہارے یہ طعنے نہ سننے پڑتے