فهرس الكتاب

الصفحة 5294 من 6343

(1) اس آیت کریمہ کے شان نزول میں دو قسم کی حدیثیں آئی ہیں، ایک حدیث انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ (رض) کی باری کے دن ان کے گھر میں، اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ سے مباشرت کرلی، اس وقت حفصہ اپنے میکے چلی گئی تھیں واپس آنے کے بعد جب انہیں اس کا اندازہ ہوا تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے میری باری کے دن میرے گھر میں وہ کام کیا ہے جو کسی دوسرے بیوی کے ساتھ آپ نے کبھی نہیں کیا تو آپ نے کہا، کیا تم یہ پسند نہیں کرو گی کہ میں اب کبھی اس کے قریب نہ جاؤں۔ حفصہ نے کہا: ہاں تو آپ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور کہا کہ یہ بات کسی کو نہ بتاتا، لیکن حفصہ نے عائشہ کو بتا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر کردی اور یہ آیت نازل فرمائی۔

دوسرا واقعہ شہد پینے کا ہے۔ بخاری و مسلم کی عائشہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ آپ زینب بنت حجش کے پاس دیر تک رہتے اور شہد پیتے تھے اس لئے عائشہ اور حفصہ (رض) نے آپس میں طے کیا کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے آیں، آپ سے کہے کہ آپ کے منہ سے " مغافیر" کی بو آرہی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو انہوں نے ویسا ہی کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا کہ نہیں میں نے زینب بنت حجش کے پاس شہد پیا ہے اب میں کبھی نہیں پیوں گا، میں نے قسم کھالی اور تم کسی کو یہ بات نہ بتانا تو یہ آیت نازل ہوئی۔

عائشہ (رض) ہی سے مروی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ (رض) کے پاس شہد پیا اور ان کے پاس ٹھہرے رہے تو عائشہ نے سودہ اور صفیہ کے ساتھ مل کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے " مغافیر" پینے والی بات کی تھی، مغافیر ایک میٹھا گوند ہوتا ہے جو " عرفط" نامی درخت سے ٹپکتا ہے اور بدبو دار ہوتا ہے۔

امام شوکانی لکھتے ہیں کہ دونوں ہی واقعات صحیح ہیں، اس لئے ممکن ہے کہ یہ آیت دونوں ہی واقعات کے بعد نازل ہوئی ہو دونوں ہی واقعات میں آتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واقعہ کے بارے میں اپنی بعض بیویوں سے بات کی اور کہا کہ وہ کسی دوسرے کو نہ بتائے آیت کریمہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حلال بنایا ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسے کسی کی مرضی کی خاطر اپنے اوپر حرام کرلے، آیت میں اس بات کی بھی صراحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اس لغزش کو درگذر فرما دیا ان پر رحم فرمایا، اور مسلمانوں کے لئے ایک شرعی حکم نازل کیا کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر قسم کھالے تو اس کا کفارہ کیا ہے، جس کی تفصیل سورۃ المائدہ آیت (98) میں آئی ہے: (فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم اوکسوتھم اوتحریر رقبۃ فمن لم یجذ فصیام ثلاثۃ ایام ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلقتم) " اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑا دینا، ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس مقدور نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفاہ ہے جب کہ تم قسم کھالو"

اس لئے جو شخص بھی کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے گا، چاہے وہ کھانے پینے کی چیز ہو یا کوئی لونڈی ہو، یا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھا لے گا، پھر قسم توڑنا چاہے گا اس پر مذکور بالا کفارہ واجب ہوگا، آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تمہارا مولیٰ ہے، دینی اور دنیاوی امور میں تمہاری عمدہ تربیت کرنی چاہتا ہے اور تمہیں بری باتوں سے دور رکھنا چاہتا ہے، اسی لئے اس نے قسم کا کفاہ ادا کرنا واجب قرار دیا ہے، تاکہ تم اس سے بری الذمہ ہوجاء، اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمتوں والا ہے، اسی لئے اس نے ایسے احکام واجب کئے ہیں جو تمہارے حالات کے مناسب اور تمہارے لئے مفید ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت