(1) اللہ تعالیٰ نے بہت سی سورتوں کی ابتدا اور انتہا میں اپنی تعریف بیان کی ہے اور اس اسلوب کلام سے اس جانب اشارہ مقصود ہوتا ہے کہ وہ ذات باری تعالیٰ ہر حال میں لائق حمد و ثنا ہے، اور بندوں کو یہ تعلیم بھی مقصود ہوتی ہے کہ ہر مہتم بالشان چیز کی ابتدا اور انتہا اللہ کی ہی حمد و ثنا سے ہونی چاہیے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنی بڑائی اس بات پر بیان کی ہے کہ اس نے بندوں کی ہدایت کے لیے قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی عظیم ترین نعمت ہے۔
اور نبی کریم کو صفت عبدیت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا گیا ہے تاکہ آپ کی اور قرآن کریم کی عظمت ظاہر ہو، اور یہ بھی ظاہر ہو کہ آپ اللہ کے بندے ہیں اور یہی آپ کا اعلی مقام ہے، نہ یہ کہ انہیں اللہ کا بیٹا کہا جائے، جیسا کہ نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔
اور قرآن کریم میں نہ لغوی اعتبار سے کوئی نقص ہے نہ ہی اس کے معانی میں تضاد ہے، اور نہ لوگوں کو حق و صداقت کی طرف بلانے کے علاوہ اس کا کوئی اور پیغام ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آیت (2) میں قرآن کو قیم کہا، یعنی یہ قرآن نہایت ہی معتدل کتاب ہے، ہر افراط و تفریط سے پاک اور تمام سابقہ آسمانی کتابوں پر غالب ہے، جس بات کو وہ حق بتاتا ہے وہ حق ہے اور جسے باطل قرار دیتا ہے وہ باطل ہے، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔
قرآن کریم کا مشن یہ ہے کہ یہ اہل شرک و معاصی کو اللہ کے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈراتا ہے، اور مومنین صالحین کو جنت کی خوشخبری دیتا ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جس میں وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔
آیت (4) میں بتایا گیا ہے کہ یہ قرآن بطور خاص ان یہود و نصاری اور مشرکین عرب کو ڈراتا ہے جو اللہ پر افترا پردازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کا کوئی بیٹا ہے۔
اور آیت (5) میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ ایسی جھوٹی بات ہے جس کی بنیاد جہالت، توہم پرستی اور باپ دادوں کی اندھی تقلید پر ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی انتہا درجہ کی برائی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اللہ رب العالمین کے خلاف اپنے منہ سے ایسی غلط بات نکالی ہے جس کا حقیقت و واقعہ سے ذرہ برابر بھی تعلق نہیں ہے، یہ محض افترا پردازی ہے۔