فهرس الكتاب

الصفحة 4124 من 6343

(20) یہ آیت کریمہ قرآن میں مذکور بہت سی مثالوں میں سے ایک مثال ہے، تاکہ لوگ اس میں غور و فکر کر کے عبرت حاصل کریں، یہ مثال ایک مشرک اور ایک موحد کے درمیان فرق واضح کرنے کے لئے بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک ایسا غلام جس کے کئی آقاہوں، اور سبھی بد اخلاق اور بدسلوک ہوں اور وہ ہمیشہ حیران و پریشان رہتا ہو کہ کس کی بات مانے اور کس کی نافرمانی کرے اور کس طرح سمجھوں کو راضی رکھے، ایسا غلام اس غلام کے مانند نہیں ہوسکتا جس کا ایک ہی آقا ہو، اسی کے اشاروں پر عمل کرتا ہو اور اطمینان بھیر زندگی گذارتا ہو۔ یہی حال مشرک و موحد کا ہے۔ مشرک مختلف معبودوں کے درمیان حیران و پریشان رہتا ہے اور موحد رب العالمین کی عبادت کرتا ہے اور اس کا دل سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ مشرک کی اسی حیرانی اور موحد کے اسی سکن و اطمینان کی طرف یوسف (علیہ السلام) نے اشارہ کیا تھا جب قرآن کی زبان میں انہوں نے جیل کے ساتھیوں سے کہا تھا: (أأرباب متفرقون خیرام اللہ الواحد القھمار) " بھانت بھانت کے بہت سارے معبود بہتر ہیں یا ایک اللہ جو صاحب قہر و جبروت ہے"

مفسر ابوالسعود لکھتے ہیں کہ (الحمد اللہ) کے ذریعہ اوپر بیان کئے گئے مشرک و موحد کے درمیان فرق کی مزید توثیق کی گئی ہے اور موحد کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اسے جو نعمت توحید حاصل ہوئی ہے وہ محض اللہ کی توفیق سے حاصل ہوئی ہے، اور یہ اتنی بڑی عظیم نعمت ہے جس پر اللہ کا ہر دم شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شرک و توحید اور مشرک و موحد کا فرق ظاہر و واضح ہونے کے باوجود، مشرکین اسے نہیں سمجھ پاتے ہیں اور شرک و ضلالت کے بھنور میں ہچکولے کھاتے رہتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت