فهرس الكتاب

الصفحة 397 من 6343

ابن ابی حاتم اور حاکم وغیرہما نے سند صحیح کے ساتھ روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے تقاتہ کا معنی یہ بیان کیا کہ اللہ کی اطاعت کی جائے، اس کی نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، بھولا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے،

بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس آیت کا ابتدائی حصہ سورۃ تغابن کی آیت فاتقوا اللہ ما استطعتم۔ یعنی اللہ سے اپنی طاقت بھر ڈرتے رہو۔ کے ذریعہ منسوخ ہے، لیکن یہ رائے صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ بندہ ہر وقت ہر حال میں اللہ سے تعلق رکھتے، اس کے عقاب سے ڈرتا رہے، اور اس کی عظمت و جلال کا اعتراف اس کے دل و دماغ پر مسلط رہے، اور سورۃ تغابن والی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت