سورۃ الطارق مکی ہے، اس میں سترہ آیتیں اور ایک رکوع ہے
تفسیر سورۃ الطارق
نام: پہلی اور دوسری آیت میں لفظ " الطارق" آیا ہے، یہی اس سورت کا نام رکھ دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت تمام کے نزدیک مکی ہے، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے ابن عباسرضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ (والسماء و الطارق) مکہ میں نازل ہوئی تھی احمد، طبرانی اور امام بخاری نے اپنی " تاریخ" میں خالد العددانی سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثقیف کے بازار میں (والسماء و الطارق) پڑھی تھی اور انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن کر یاد کرلیا تھا۔