(22) شوکانی نے مفسر واحدی کے حوالے سے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ وہ لوگ علم نجوم کے قائل تھے، اسی لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کی طرف دیکھ کر کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر میں تمہارے ساتھ میلے میں شریک ہوں گا تو بیمار پڑجاؤں گا، تاکہ لوگ انہیں میلہ میں شرکت سے معذور سجھیں، چنانچہ ایسا ہی ہوا، لوگوں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا اور میلے میں شرکت کے لئے چلے گئے ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کے پاس پہنچے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر تم عبادت کے مستحق ہو تو تمہارے سامنے اتنے سارے کھانے رکھے ہیں انہیں کیوں نہیں کھاتے ہو، لیکن بتوں نے نہ کھانا کھایا اور نہ ان کی بات کا جواب دیا تو ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ اے بتو ! تم بولتے کیوں نہیں ہو؟ پھر اپنے دائیں ہاتھ میں موجود کلہاڑی سے انہیں مار مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے مشرکین جب شام کو واپس آئے اور اپنے معبودوں کا حال زار دیکھا، تو فوراً ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان سے پوچھ تاچھ کرنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے دفاع میں کہا کہ یہ کیسی تمہاری کور مغزی ہے کہ جن بتوں کو تم اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو انہی کی پوجا کرتے ہو حالانکہ اور تمہارے معبودوں کا خالق اللہ ہے، اس لئے عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔