فهرس الكتاب

الصفحة 706 من 6343

47۔ آیات 33، 34 آیات محاربہ کہلاتی ہیں، محاربہ کا لغوی معنی مخالفت ہے، اور اصطلاح شرع میں اس کا اطلاق کفر، ڈاکہ زنی، لوٹ مار اور دہشت گردی پر ہوتا ہے۔

ابو داود اور نسائی نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ آیات مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، ایسا کرنے والا اگر گرفتار کیے جانے سے پہلے توبہ کرلے گا تو بھی اس پر حد قائم کی جائے گی۔

بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے کہ عرینہ یا عکل کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ آ کر اسلام قبول کرلیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق پڑی، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کی جگہ چلے جائیں، اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے وہاں جا کر ایسا ہی کیا اور جب صحت مند ہوگئے تو کچھ دنوں کے بعد اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کردیا اور اونٹﷺں کو ہنکا کرلے گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں پکڑنے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا، جب وہ پکڑ کر لائے گئے تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں، اور ان کے زخموں کو بغیر داغے ہوئے چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ مرگئے، امام مسلم کی انس (رض) سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے چرواہوں کی آنکھیں پھوڑ دی تھیں، اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بھی آنکھیں پھوڑ دیں۔

حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین اور غیر مشرکین سب کے بارے میں عام ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عکل یا عرینہ والوں کو جو سزا دی گئی تھی وہ اس آیت کے ذریعہ منسوخ ہوگئی ہے، اور اب محاربہ کرنے والوں کو وہی سزا دی جائے گی جس کا بیان اس آیت میں آیا ہے۔ ظاہر آیت دلالت کرتی ہے کہ آیت میں مذکور جس سزا کو امام وقت جس کے لیے مناسب سمجھے گا نافذ کرے گا، آیت کا تممہ ذلک لہم خزی فی الدنیا ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم، دلالت کرتا ہے کہ محاربین کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا ملے گی، دنیا میں ھد قائم کردینے سے وہ پاک نہیں ہوجائیں گے، چاہے وہ مسلمان ہوں، حافظ سیوطی اور شعرانی وغیرہم کی یہی رائے ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت