فهرس الكتاب

الصفحة 2149 من 6343

(68) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فمرایا کہ اس نے قرآن کریم میں جو احکام اور اوامر و نواہی بیان کیے ہیں وہ اس کے علم کا ایک حصہ ہیں اور قرآن ایسی برحق کتاب ہے جو تمام شبہات سے بالاتر ہے نہ اس میں انسانوں کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی اور نہ ہی کوئی کمی، جیسا کہ سورۃ فصلت آیت (42) میں آیا ہے: (لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) جس کے قریب باطل پھٹک بھی نہیں سکتا، نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے آپ کو یہ قدرت دے کر نہیں مبعوث کیا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کردیں، آپ کا کام تو صرف دعوت و تبلیغ ہے، اللہ کی اطاعت کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیدیں، اور نافرمانی کرنے والوں کو جہنم سے ڈرائیں۔

آیت (106) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو تئیس سال میں کسی حکمت کے تقاضے کے مطابق نازل کیا ہے، اور اس لیے ایسا کیا ہے تاکہ آپ بتدریج اس کی تعلیم صحابہ کو دیتے رہیں، اور لوگوں کے احوال و مصالح کے مطابق بتدریج احکام الہی نازل ہوتے جائیں اور ان کے دل و دماغ میں ثبت ہوتے جائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت